غزل

محبت جھوٹ ہے وصل وفا بےکار سی شئے ہے

کوئی بھی درد ہو اس کی دوا بے کار سی شئے ہے

ادریس آزاد

محبت جھوٹ ہے وصل و فا بے کار سی شئے ہے
کوئی بھی درد ہو اس کی دوا بے کار سی شئے ہے

وہ عورت ہے روایت کی پرستش اس کی فطرت ہے
میں جس کے واسطے پاگل ہوا بے کار سی شئےہے

اگر ہے زندگی، یوں زندگی، پھر صاف ظاہر ہے
فنا معقول ہے لیکن بقا بے کار سی شئے ہے

میرے اعمال کے خالق عنایت کر! رعایت کر!
کہ تیرے سامنے میری خطا بے کار سی شئے ہے

وہ میری ذات ہے جو قیمتی ہے ہر خزانے سے
ہراک شئے، ایک بس اس کے سوا بے کار سی شئےہے

تجھے سُورج نکلتا، ڈوبتا میں پیش کردیتا
مگر آنکھوں کے اندھے کو ضیا بےکار سی شئے ہے

اگر پہلے سے لکھ رکھا ہے اس نے میری قسمت کو
تو پھر کوشش عبث ہے التجا بے کار سی شئے ہے

ترے حیرت کدے کو دیکھ کر یہ عقل عاجز تھی
مگر یکلخت اِس دِل پر کھُلا بے کار سی شئے ہے

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Back to top button
Close