غزل

 محبت کا سفر ہے اور میں ہوں

وہی جانِ سحر ہے اور میں ہوں

سحر محمود

 محبت کا سفر ہے اور میں ہوں

وہی جانِ سحر ہے اور میں ہوں

پھنسا ہوں گردشِ ایام میں یوں

کہ بس شام و سحر ہے اور میں ہوں

وہ رہتے ہیں بہت آرام جاں سے

مرا دل بھی تو گھر ہے اور میں ہوں

میں اس کے بن ہوں کیسا یہ نہ پوچھو

کوئی جیسے کھنڈر ہے اور میں ہوں

مری شب بھی منور ہو گئی ہے

زمیں پر اک قمر ہے اور میں ہوں

یہ دولت بھی سحر کچھ کم نہیں ہے

مرا لختِ جگر ہے اور میں ہوں

مزید دکھائیں

سحر محمود

نام: فضل الرحمنقلمی نام: سحر محمودپیدائش (تاریخ و مقام): 26/08/1989 ، ابھراؤں ، کپل وستو، نیپالتعلیم: مکتب : مدرسہ مصباح العلوم، منخوریا شمالی۔ حفظ: معہد عثمان بن عفان، ذاکر نگر، دہلی۔(2006) عالمیت و فضیلت: جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی۔(14-2013) بی- اے اردو (پرائیویٹ): جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی (2018) مصروفیات: مارکیٹنگ مینیجرمعروف قلمی خدمات (مقالات و کتب): بعض رسائل و جرائد میں مضامین و مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ شعری مجموعہ : بنام “جہان آرزو” (2016) میں منظر عام پر آچکا ہے۔پسندیدہ قلم کار: نثر نگاروں میں: ابن صفی ، مشتاق احمد یوسفی، سعادت حسن منٹو،ابو الکلام آزاد وغیرہ۔ شعرا میں : میر، غالب،علامہ اقبال،شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطانپوری،ناصر کاظمی، محسن نقوی، عباس تابش وغیرہپسندیدہ کتابیں: زاد المعاد ( ابن قیم) غبارِ خاطر( ابو الکلام آزاد) جب زندگی شروع ہوگی ( ابو یحی- ان کی تمام تصنیفات) ۔رہائش: تاہاچل، کٹھمنڈو ، نیپالرابطہ: 9811576091-977+ saharmahmood999@gmail.com

متعلقہ

Close