غزل

مری آنکھیں ہیں دیکھو کس قدر خوش

خوشی ہوتی ہے تم کو دیکھ کر خوش

افتخار راغبؔ

مری آنکھیں ہیں دیکھو کس قدر خوش

خوشی ہوتی ہے تم کو دیکھ کر خوش

ہوا میں کس کی خوش بو آ بسی ہے

ہیں پتّے رقص میں سارے شجر خوش

شعاعیں ملتفت الفت کی تیری

درختِ جاں کے ہیں برگ و ثمر خوش

بتاؤں کب چمکتی ہیں یہ آنکھیں

نظر آتی ہے کب تیری نظر خوش

ہے غیروں کے لیے موقع سنہرا

مرے احباب ہیں کس بات پر خوش

مقفّل رکھّوں لب یا جان دے دوں

نہ ہو گا وہ کبھی بیداد گر خوش

وہ برسائے گا کب تک سنگ ہم پر

خدا رکھّے اُسے بھی عمر بھر خوش

"خدا حافظ” سے شب بجھ سی گئی تھی

سلامِ صبح سے آئی سحر خوش

قدم کس کے پڑے ہیں آج راغبؔ

دکھائی دے رہا ہے سارا گھر خوش

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close