غزل

 مری شرابِ تمنّا مرے گلاس میں ہے

اِسی لیے تو یہ منظر ابھی حواس میں ہے

ادریس آزاد

 مری شرابِ تمنّا مرے گلاس میں ہے
اِسی لیے تو یہ منظر ابھی حواس میں ہے

نہ اشک پی کے میسر ہوئی وہ سیرابی
جو انتظار کے دوپتھروں کی پیاس میں ہے

میں اپنے آپ سے رہتاہوں دور عید کے دِن
اِک اجنبی سا تکلّف نئے لباس میں ہے

کٹے پھٹے ہوئے دل کو نصیب ہوتاہے
وہ اِک گداز جو دُھنکی ہوئی کپاس میں ہے

بیان کرنے کو سات آسمان تھوڑے ہیں
جو کائنات کی وسعت خداشناس میں ہے

اُٹھا اُٹھا کے عداوت کا بوجھ کاندھوں پہ، اب
جھکی ہوئی مری دیوار التماس میں ہے

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close