غزل

 مستمر وقت، سنبھل کر تو دکھا!

ادریس آزاد

 مستمر وقت، سنبھل کر تو دکھا!
میرے جیسا کوئی پل کر، تو دکھا!

۔

دیکھتا ہوں بھلا کیا ہوتا ہے
اے مری سانس! تو چل کرتو دکھا!

۔

تو لہو ہے تو دکھا رقصِ جنوں!
مری شہ رگ سے! اچھل کرتو دکھا!

۔

اُس جہاں میں نہیں دونگا دوزخ
پہلے اِس آگ میں جل کر تو دکھا!

۔

تجھ کو پاتال سے لے آؤنگا
تو مرے دل سے نکل کر تو دکھا؟

۔

کیا پتا اب کے وہ مل جائے اےدل!
پھر تو اِک بار مچل کرتو دکھا!

۔

دیکھ ! حالات بدل جائیں گے
تو بھی کچھ خود کو بدل کرتو دکھا!

۔

روز دل چوٹ نئی سہتا ہے
چشمہ ِ اشک! اُبل کر تو دکھا!

۔

کربِ گل مہر کو معلوم کہاں
اے جوانی ذرا ڈھل کر تو دکھا!

۔

جس میں ہر شخص ہو انگشت نما
ایسے ماحول میں پل کر تو دکھا!

۔

روز، امروز کیے جاتا ہے
پہلے اِک عام سی کل کر، تو دکھا!

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close