غزل

مسلسل چوٹ کھاتےجارہے ہو 

بدن   پتھر بنا تے  جا رہے  ہو 

جمیل اخترشفیق

مسلسل چوٹ کھاتےجارہے ہو

بدن   پتھر بنا تے  جا رہے  ہو

جگرچھلنی ہواہےاس کےغم میں

مگر  کیا  کیا  سناتے  جا رہے ہو

زباں کھولو تو کوئ حل بتاؤں

یہ کیا آنسو  بہاتے  جا رہے ہو

اکیلےدرد کی بھٹی میں جل کر

ہمارا   دل   دُکھاتے  جا ر ہے ہو

مجھےمحسوس ہوتاہےکہ ہنس کر

تم   اپنا  غم  چھپاتے  جارہے   ہو

لبوں پر سادھ کر خاموشیاں تم

مری  دھڑکن  بڑھاتے جا رہے ہو

نیا کچھ حادثہ پیش آگیا کیا

مسلسل  مسکراتے جارہے  ہو

سناؤ تو شفیق  اپنی  کہانی

یہ کیا رو کر رلاتے جارہے ہو

مزید دکھائیں

جمیل اختر شفیق

جمیل اخترشفیق صاحب کا تعلق صوبہ بہار کے مشہور ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کی ایک انتہائ پسماندہ بستی سنڈوارہ سے ہے۔ آپ شاعری کے علاوہ ملک کے درجنوں اخبارات ورسائل کے لیے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے کالم لکھتے آئے ہیں اور خوب پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف مذہبی، ادبی، سماجی موضوعات پہ منعقد ہونے والے پروگرام میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے، ملک کے قد آور شعراء کی موجودگی میں وہ درجنوں آل انڈیا مشاعروں کی تاریخ ساز نظامت بھی کر چکے ہیں اور ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی شخصیت بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ممبئ سے نشر ہونے والا ٹیوی چینل "آئی پلس ٹیوی" جسے دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں اس پہ "رنگ ونور ایک دینی مشاعرہ" کے تحت نشر ہونے والے مشاعرے کی نظامت کرتے ہوئے بھی انہیں ناظرین ہر جمعہ کو دن میں 2.30بجے اور رات میں 7.30بجے متواتر دیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ صوبہ بہار کی ادبی دنیا کے لیے فخر کی بات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close