غزل

ملت کا اپنی مونس و غمخوار بھی تو ہو

کوئی تو اِن میں قافلہ سالار بھی تو ہو

احمد علی برقی ؔاعظمی

ملت کا اپنی مونس و غمخوار بھی تو ہو

کوئی تو اِن میں قافلہ سالار بھی تو ہو

کب سے جگا رہا ہوں یہ جاگیں تو کچھ کہوں

خوابِ گراں سے جب کوئی بیدار بھی تو ہو

قول و عمل پہ کیسے کروں اس کے اعتبار

اُس بدنہاد کا کوئی کردار بھی تو ہو

اب تک تھا جن سے سابقہ تھے مارِ آستیں

دل کس سے میں لگاؤں کوئی یار بھی تو ہو

سنتا نہیں ہے آج کوئی میرے من کی بات

میں کس کو دوں بیاں کوئی اخبار بھی تو ہو

حسرت بھری نگاہ سے دیکھوں میں کیا وہاں

ارزاں متاعِ کوچہ و بازار بھی تو ہو

برقیؔ سبھی کو اچھے دنوں کا ہے انتظار

کہتے ہیں سب یہی کوئی بیزار بھی تو ہو

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close