غزل

منہ  سے  جو  لفظ  نکلا،  وہ  تھا   کتاب  جیسا

مجاہد ہادؔی ایلولوی

منہ  سے  جو  لفظ  نکلا،  وہ  تھا   کتاب  جیسا
مجھ کو سمجھتے کیسے، میں تھا نصاب جیسا

۔

کل مشکلیں بہت  تھی،  لیکن سکون  بھی  تھا
لوٹا  دو   ہم   کو   اپنا،   اک  پل  شباب  جیسا

۔

کیوں  اشکبار  آنکھیں،   ہوتی نہیں  ہیں میری
کچھ   تو  پڑا  ہوا  ہے،   دل  پر  حجاب  جیسا

۔

میری  نظر  سے   ظالم،   اتنا  سمجھ  چکا   ہے
دریا  میں اب  بھی  باقی،  ہے اضطراب  جیسا

۔

محسن سمجھنا اس کو، محسن ہو جو حقیقی
اس  پر  تو  خار   نکلے،  تھا  جو  گلاب   جیسا

۔

ظلمت   کدے   سے   ہادؔی   نکلو  زمانہ  دیکھو
سب  ہی   بنا   رہے  ہیں،   رستہ   عُقاب  جیسا

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close