غزل

مہارے پہلو سے پہلو اگر لگا ہوتا

ہمارے ساتھ تمہارا بھی کچھ بھلا ہوتا

طارق ابرار

مہارے پہلو سے پہلو اگر لگا ہوتا

ہمارے ساتھ تمہارا بھی کچھ بھلا ہوتا

ہمارے پیار کا کچھ اور ہی مزہ ہوتا

رقیب سے بھی تمہارا جو واسطہ ہوتا

مجھے شکست کا عنوان دیکھنا تھا میاں

وگرنہ کھیل کا نقشہ ہی دوسرا ہوتا

تو قتل کرتا مجھے شوق سے مرے دشمن

کفن جو باندھ کے سر سے اگر چلا ہوتا

تمہارے پیار میں شدت نہ ہوتی اتنی، اگر

میں ابتدا ہی میں سینے سے لگ گیا ہوتا

میں جس جگہ ہوں اگر آپ ہی وہاں ہوتے

تو خود بتاؤ تمہارا جو فیصلہ ہوتا

مجھے غزل سے محبت ہے اتنی، اے طارق

اگر نہ ہوتا میں شاعر، غزل سرا ہوتا

مزید دکھائیں

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close