غزل

میں اشکِ ندامت بہاؤں بھی کیسے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

میں اشکِ ندامت بہاؤں بھی کیسے
غمِ ہجر تم کو سناؤں بھی کیسے

۔

مجھے زخم یارو جگر پر لگے ہیں
یہ زخمِ جگر میں دکھاؤں بھی کیسے

۔

کبھی میری آنکھوں نے جو کھینچ لی تھی
وہ تصویر تیری جلاؤں بھی کسے

۔

ستم جو محبت میں جھیلے ہیں میں نے
زمانے سے وہ سب چھپاؤں بھی کیسے

۔

ترے عشق کا راز ہے جس میں پنہا
وہ پردہ میں آخر اٹھاؤں بھی کیسے

۔

جو شمع محبت جلائی تھی میں نے
اب اشکوں سے اس کو بجھاؤں بھی کیسے

۔

تمنا جو دل میں پنپتی ہے میرے
لبوں پر اسے میں سجاؤں بھی کیسے

۔

جو حالت ہے ہادؔی محبت میں ان کی
بھری بزم میں وہ چھپاؤں بھی کیسے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close