غزل

میں تو مایوس ہوا اس پہ بھروسا کر کے

ہائے نادم ہے مرا یار بھی وعدہ کر کے

عبدالکریم شاد

میں تو مایوس ہوا اس پہ بھروسا کر کے

ہائے نادم ہے مرا یار بھی وعدہ کر کے

….

سرخ رو ہوتے ہیں مسکین کو رسوا کر کے

لوگ تشہیر کیا کرتے ہیں صدقہ کر کے

….

باپ گھر بار کو یوں ہی نہیں رکھتا شاداب

دھوپ کھاتا ہے شجر دشت میں سایہ کر کے

….

یہ جو ہنس ہنس کے ملا کرتے ہیں ہم لوگوں سے

لوگ روئیں گے کبھی ذکر ہمارا کر کے

….

امتحانوں سے گزرنا تو ابھی باقی ہے

خوش گماں مت ہو فقط عشق کا دعویٰ کر کے

….

دیکھتا رہتا ہوں مڑ مڑ کے قضا کی جانب

جانے کس وقت بلا لے وہ اشارہ کر کے

….

دھوپ دن ہونے کا اعلان تو کرتی ہے مگر

 لوگ سو جاتے ہیں کمرے میں اندھیرا کر کے

….

دل جو بھر آیا تو روئے ہیں سر محفل ہم

شاد! نا ساز طبیعت کا بہانا کر کے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close