غزل

میں جانتا ہوں حقیقت شناوری کیا ہے

ادریس آزاد

میں جانتا ہوں حقیقت شناوری کیا ہے
مگر بیاں کروں میری بساط ہی کیا ہے

۔

مرے عمل کا بھی خالق ہے تُو مرے مولا!
یہ اختیار ہے میرا تو بے بسی کیا ہے

۔

جیے تو پی کے جیے ورنہ پھر جیے نہ جیے
چلی ہے رسم تو یہ رسم پھر چلی کیا ہے

۔

میں اشکبارتھاڈُوبا تو خوش ہوا دریا
وہ جانتا تھا سمندر کی تشنگی کیا ہے

۔

میں شہرِ زہرِ تلذذ میں سانس لیتا ہوں
مجھے نہ کوئی بتائے کہ خودکشی کیا ہے

۔

وہ جس خدا کو اکیلا سمجھ رہے ہو تم
وہی تو سب کو سکھاتا ہے دوستی کیا ہے

۔

کہا جو میں نے الف کہہ ! تو ٹوک کر بولا
اگر یہ پہلا سبق ہے تو آخری کیا ہے؟

۔

مرے دہن سے نکلتے ہی رقص کرتا ہے
دھوئیں کو میرے تنفس سے دل لگی کیا ہے

۔

یہ کس طرح سے تعلق نبھا رہے ہو تم
ہمارے ساتھ تمہاری برادری کیا ہے

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close