غزل

میں جا رہا ہوں

حبیب بدر ندوی

میکدہ کے اے ساقیو، پلاؤ جام، میں جا رہا ہوں

قسمت میں میری وفا نہیں ہے،  پیام لے کے میں جا رہا ہوں

ہزار بار وہ مڑ کے دیکھا،  کہاں یہ فرصت کہ مئے پلائے

جی بھر کےاب انتقام لے لو،  اشک بہائے میں جارہا ہوں

کہاں ہیں وعدے، کہاں ہیں قسمیں، جو اجڑے موسم میں تم کئے تھے

بہار آیا تو کرلو مستی، دیوانہ بن کے میں جارہا ہوں

تمہاری انجمن تمہیں مبارک، میری انجمن میں گزر نہیں ہے

نغمہ وداع کا سب مل کے گاؤ، فسانہ بن کے میں جا رہا ہوں

 وفا پہ تیری مجھے شک نہیں تھا، رنجور  اس لیے ہوں میں

ہزار انجمن وفا کے ہیں ، کسی انجمن میں، میں جا رہا ہوں

یونہی مسکراؤ جہاں میں تم ، خدا سے میری دعا یہی ہے

میری التجاہے تم سے اتنا ، مجھے بھلاؤ، میں جا رہا ہوں

مزید دکھائیں

حبیب بدر ندوی

ایم اے شعبہ عربی جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی.

متعلقہ

Close