غزل

میں جب بھی کوئی منظر دیکھتا ہوں

جہاں گیر نایاب

میں جب بھی کوئی منظردیکھتا ہوں

ذرا  اوروں  سے  ہٹ  کر  دیکھتا ہوں

کبھی میں دیکھتا ہوں  اسکی رحمت

کبھی  میں   اپنی  چادر  دیکھتا ہوں

نظر   کا   زاویہ   بدلا   ہے   جب  سے

میں کوزے  میں  سمندر  دیکھتا ہوں

کبھی میرے  لیے تھے پھول جن میں

اب ان ہاتھوں میں  پتھر دیکھتا ہوں

سبھی   ہیں    مبتلائے  خود   فریبی

عجب   دنیا   کا   منظر  دیکھتا  ہوں

نہیں   بدلاؤ    کے   آثار   کچھ   بھی

وہی    حالات    ابتر     دیکھتا   ہوں

مقدر    میں   لکھی   ویرانیوں  میں

ذرا سا  رنگ   بھر   کر   دیکھتا  ہوں

نظر   آتا    ہے   مدفن   خواہشوں  کا

کبھی جب  اپنے   اندر   دیکھتا  ہوں

سنا    ہے    آگ   ہے   اس   کا   سراپا

چلو  باہوں میں  بھر کر  دیکھتا ہوں

بصیرت مجھ میں  ہے  نایاب  ایسی

میں ہر قطرے میں گوہر دیکھتا ہوں

مزید دکھائیں

جہاں گیر نایاب

جہا ں گیر نایاب کا اصل نام محمد جہانگیر عالم ہے۔ آپ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں اور سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے لیے بھی معروف ہیں۔

متعلقہ

Close