غزل

میں سچا مردِ مؤمن ہوں مجھے اخبار مت سمجھو

مجاہد ہادؔی ایلولوی

میں سچا مردِ مؤمن ہوں مجھے اخبار مت سمجھو
ہے اب تک حوصلہ باقی مجھے بیمار مت سمجھو

۔

ہمیشہ خار  زاروں  میں ہے  گزری  زندگی  میری
وطن پہ مر بھی سکتا ہوں مجھے غدار مت سمجھو

۔

کبھی تاریخ لکھی تھی ہمیں نے ملک کی خوں  سے
پلٹ سکتے ہیں نقشے ہم ہمیں لاچار مت سمجھو

۔

کبھی گوری حکومت تھی ابھی کالوں کا قبضہ ہیں
یہ دو دن کی حکومت ہے اسے بسیار مت سمجھو

۔

اٹھیں گے پھر سے ٹیپو بن کے ہندوستاں کی دھرتی سے
ہمیں ہیں پاسباں اس کے ہمیں اغیار مت سمجھو

۔

مٹادو نقش باطل کے ہر اک کو اس کا حق دیدو
تمہارا  کام ہے  ہادؔی   اسے  دشوار  مت  سمجھو

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

Close