غزل

میں کہیں گم ہوگیا ہوں

خالد راہی

میں کہیں گم ہوگیا ہوں

جب سے تم ہوگیا ہوں

بجھتی ہوئی لو جیسے

بہت مدہم ہوگیا ہوں

اسقدر زخم ملے ہیں

اب تو مرہم ہوگیا ہوں

تیری گلیوں کی جیسے

پیچ و خم ہوگیا ہوں

قیاسوں میں ہوں جیتا

تجھ میں ضم ہوگیا ہوں

راہی گمشدہ ضرور ہیں

رستہ نہیں جو ختم ہوگیا ہوں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close