غزل

نئے لوگوں سے مل کر کھو گئے ہیں

عمران عالم

نئے لوگوں سے مل کر کھو گئے ہیں

پرانے دوست دشمن ہو گئے ہیں

۔

خبر رکھتے ہیں ہر پل دل نشیں کی

ابھی آئے تھے آ کر رو گئے ہیں

۔

کہاں تم اور باتیں آسماں کی

ستارے بھی فلک پر سو گئے ہیں

۔

مکانوں سے ذرا تو بھی نکل آ

پرندے شاخ پر ہی سو گئے ہیں

۔

تبسم کا حسیں عالم دکھا کر

نہ جانے کیوں مرے غم دھو گئے ہیں

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close