غزل

نظر جو عشقِ نظر کو ڈھونڈے

نظر وہ حسنِ نظر کو ڈھونڈے 

نزہت قاسمی

نظر جو عشقِ نظر کو ڈھونڈے
نظر وہ حسنِ نظر کو ڈھونڈے

بتائیےسحر وہ حاصلِ نظر کی
سحر کہاں وہ نظر جو ڈھونڈے

کبھی جو حاصلِ من کو کریدا
لا حاصلِ من نظر وہ ڈھونڈے

مینار روشنی کے جلے کہاں وہ
نظر نہ آئے نورِ نظر جو ڈھونڈے

ملے کہاں جو ہمیں ملیں گے
فقط سرابِ نظر جو ڈھونڈے

ہے ایک فقط نظرِ منتظر جو
نظر تو آئے نظر جو ڈھونڈے

سلسلہؑ جستجوِ رواں کی نزہت
رمق وہ ملتی نظر جو ڈھونڈے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close