غزل

نقوش ہند مٹتے جا رہے ہیں

رجال اللہ اٹھتے جا رہے ہیں

ڈاکٹرسراج الدین خاں سراج قاسمی

(پروفیسرعبد العلي طبيه كالج كٹولی لکھنئو)

نقوش  ہند  مٹتے  جا رہے ہیں

رجال اللہ اٹھتے جا رہے ہیں

جنہوں کے دم سے قائم روشنی تھی

وہی اسلاف اٹھتے جا رہے ھیں

مسلمانوں تمھیں کچھ ھوش بھی ھے

تمھارے پیر کٹتے جا رہے ھیں

زمیں و آسماں سب کیوں نہ روئیں

میرے اسلاف اٹھتے جا رہے ھیں

ابھی جو جا چکے مولانا سالم

اجالے ایسے گھٹتے جا رھے ھیں

جگر کاخون سب پانی ھواھے

مرے آ نسو ٹپکتے    جا رھے ھیں

میری غزلوں میں ھے کچھ ساز ایسا

سبھی کے دل دھڑکتے جا رھے ہیں

سراج اسکا مجھے بھی غم بہت ہے

میرے بچے بھٹکتے جا رہے ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close