غزل

نکلا نہ ایک حرف بھی میری زبان سے

مقصود عالم رفعتؔ

ہرچند اس نے کھیلا مرے دل سے جان سے

"نکلا نہ ایک حرف بھی میری زبان سے”

برق نگاہ ناز کی سرعت نہ پوچھئے

گویا لگا ہو تیر نکل کر کمان سے

خود پاسباں نے ملک کو برباد کر دیا

اچھا تھا اپنا ملک یہ سارے جہان سے

حیرت ہے رہنماءوں کو کیا جانے ہوگیا

تکلیف ان کو ہونے لگی ہے اذان سے

للہ اپنی نظروں سے یوں مت گرائیے

چاہے گرائیے مجھے آپ آسمان سے

حاصل نہیں جو منزل مقصود اب تلک

میں نے فریب کھائے بہت نگہبان سے

ہم کو ملی ہے منزل مقصود یوں نہیں

گزرے رہ وفا میں بڑے امتحان سے

کیوں مال و زر کی ہو مجھے رفعت ہوس بھلا

جیتا ہوں مفلسی میں بڑی آن بان سے

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

ایک تبصرہ

  1. ہم کو ملی ہے منزل مقصود یونہی نہین
    گزرے رہ وفا میں ہیں بڑے امتحان سے

متعلقہ

Close