غزل

نہ دولت کام آئےگی نہ شہرت کام آئےگی

بروزِ حشر میں آقا کی الفت کام آئےگی

محمد ارباز

نہ دولت کام آئےگی نہ شہرت کام آئےگی

بروزِ حشر میں آقا کی الفت کام آئےگی

سجا لو اپنے چہروں کو میرے آقا کی سنّت سے

اندھیری قبر میں آقا کی سنّت کام آئےگی

بسا لے اپنے دل میں جو کلامِ حق کے پاروں کو

خدا کے سامنے اُن کی تلاوت کام آئےگی

بدل کر کر نہیں سکتے شریعت میں یہ تبدیلی

وطن کے ہر قدم پر تو شریعت کام آئےگی

اگر تم چور ڈاکُو ہو کوئی ملتا نہ ہو تم کو

چلے جاؤ سیاست میں سیاست کام آئےگی

اُٹھی گَر آپ پر اُنگلی بتا دینگے حُسَینی ہے

یہ زندہ پَن سے بہتر تو شہادت کام آئےگی

ہے گستاخِ نبی جتنے سزا اُن کو تو ملنی ہے

ٹھر جاؤ قیامت تک قیامت کام آئےگی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close