غزل

نیکی شمار ہونے لگی ہے حساب میں

دستگیر نواز

نیکی شمار ہونے لگی ہے حساب میں

ملتا ہے اب سکوں مجھے  کارِ ثواب میں

۔

دنیا کی فکر میں ہی گزرتےہیں دن تمام

راتوں کی نیند اڑ گئی شاید عتاب میں

۔

اک ایک کرکے یاد مجھے ٓارہے ہیں اب

جتنے گناہ کرلئے عہدِ شباب میں

۔

تصویر خار کی مجھے بھیجی رقیب نے

میں نے گلاب بھیج دیا ہے جواب میں

۔

دن تو گزار دیتے ہیں ہنس بول کر کہیں

راتیں گزر رہی ہیں بہت اضطراب میں

۔

انسانیت کا درس کہاں کھوگیا نواز

کچھ تلخیاں جو ہوگئیں شامل نصاب میں

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close