غزل

وحشت ہوئی ذرا بھی کم، ایسا کبھی نہیں ہوا

آیا سکونِ دل بہم، ایسا کبھی نہیں ہوا

افتخار راغبؔ

وحشت ہوئی ذرا بھی کم، ایسا کبھی نہیں ہوا

آیا سکونِ دل بہم، ایسا کبھی نہیں ہوا

نا پختگی سخن میں تھی، لکنت زبانِ فن میں تھی

دل کی تڑپ ہوئی رقم، ایسا کبھی نہیں ہوا

محسوس کر کے دیکھ لے، خوش بو کے ہیں قبیل سے

پھیلے نہیں ہوا میں ہم، ایسا کبھی نہیں ہوا

بے زار مجھ سے توٗ ہٗوا، بے رغبتی سے دل دُکھا

کیسے کہوں تری قسم، ایسا کبھی نہیں ہوا

ہر دم توٗ میرے پاس ہے، تیری ہی ایک آس ہے

مجھ پر نہ ہو ترا کرم، ایسا کبھی نہیں ہوا

دل کی مرے فسردگی، تجھ پر عیاں ہوئی کبھی

آنکھیں ہوئیں نہ تیری نم، ایسا کبھی نہیں ہوا

حق کی کسی نے بات کی، دیکھی گئی نہ برہمی

ڈھایا نہیں گیا ستم، ایسا کبھی نہیں ہوا

آیا نہ دھیان کب بھلا، سونے سے قبل آپ کا

آئی نہ یاد صبح دم، ایسا کبھی نہیں ہوا

ظالم نہیں ہے تنگ دل، پگھلے گا اُس کا سنگ دل

کیا کہہ رہے ہیں محترم، ایسا کبھی نہیں ہوا

ماضی میں جھانک، دیکھ لے، لالچ سے ہو کہ خوف سے

راغبؔ کا سر ہوا ہے خم، ایسا کبھی نہیں ہوا

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Close