غزل

وہ اپنے ناز و ادا دکھاتے، کبھی تو آتے

جمشید انصاری

وہ اپنے ناز و ادا دکھاتے ، کبھی تو آتے

اسی طرح پھر ہمیں ستاتے، کبھی تو آتے

کبھی جھگڑتے، کبھی بگڑتے، کبھی اکڑتے

کبھی ہنساتے ، کبھی رلاتے، کبھی تو آتے

میں ایک بھٹکا ہوا مسافر تمھاری خاطر

کہ میری منزل مجھے دکھاتے کبھی تو آتے

تمھاری یادوں میں تن بدن میرا جل رہا ہے

گھٹا محبت کی بن کے چھاتے کبھی تو آتے

بچھڑ کے تم سے نہ جی رہا ہوں نہ مر رہا ہوں

اے کاش تم بھی یہ دیکھ پاتے کبھی تو آتے

بڑا سکوں تھا ہمارے دل کو تمھارے دل میں

کہ پھر سے دل سے وہ دل ملاتے کبھی تو آتے

سمجھ میں آتا غزل ہماری ہے کس کی خاطر

جو میرے شعروں کو گنگناتے کبھی تو آتے

بہت کٹھن ہے بنا تمھارے گزر ہمارا

تم آتے ملنے تو جان پاتے کبھی تو آتے

جو تم نہیں ہو تو بکھرا بکھرا ہے گھر ہمارا

اجاڑ گھر میرا پھر سجاتے کبھی تو آتے

تمھاری چاہت کی آگ دل میں سلگ رہی ہے

دہکتے شعلوں کو تم بجھاتے کبھی تو آتے

یقین ہوگا کہ کس قدر تم کو چاہتا ہوں

مجھے محبت میں آزماتے کبھی تو آتے

وفا شعاری میں تم سا کوئی نہیں جہاں میں

یقین جمشید کو دلاتے کبھی تو آتے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close