شجر کی گود خالی ہو گئی ہے

عتیق انظر

شجر  کی گود  خالی  ہو  گئی ہے
پریشاں ڈالی  ڈالی  ہو گئی ہے

ہوائیں رقص کرتی ہیں جنوں میں
بہار   گل    نرالی    ہو گئی  ہے

لہو  میں  تر بہ تر  ہے  فاختہ  کیوں
نظر  ہر  اک  سوالی  ہو گئی  ہے

امیر شہر  ہے  مسند  پہ  پھر بھی
ہر  اک  دیوار  کالی  ہو گئی  ہے

ابھرتا  ہی نہیں  ہے  چاند کوئی
نظر کھڑکی  کی  جالی  ہو گئی  ہے

ہنسی کے پھول سب میں بانٹتی ہے
وہ   بالکل   لا  ابالی  ہو  گئی  ہے

خدا  محفوظ  رکھے  نظر  بد  سے
غزل  میری  مثالی  ہو گئی  ہے

(مضامین ڈیسک)

⋆ عتیق انظر

عتیق انظر
عتیق انظر ان دنوں قطر میں مقیم ہیں۔ آپ کو جذبات اور رومان کا شاعر کہا جاتا ہے۔ آپ انڈیا اردو سوسائٹی قطر کے بانیوں میں سے ہیں۔ پہچان آپ کا مجموعہ کلام ہے۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

غزل – دیکھتا کیا ہے بال وپر خاموش

عتیق انظر دیکھتا کیا ہے بال وپر خاموش حوصلہ کر اڑان بھر خاموش یہ فلک …