غزل

وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے

 مقصود عالم رفعتؔ

 کسی مقام پہ کب ہم ٹھہرنے والے تھے

ہر ایک حدِّ طلب سے گزرنے والے تھے

۔

کہاں گئے وہ جو حد سے گزرنے والے تھے

تری اداؤں پہ سو جاں سے مرنے والے تھے

۔

نظر میں قلب میں جاں میں اترنے والے تھے

وہ لوگ اور تھے جو پیار کرنے والے تھے

۔

قصور اپنا تھا ہم متحد نہ ہو پائے

وگرنہ ٹوٹ کے کب ہم بکھرنے والے تھے

۔

تمہیں سے سیکھی ہے طرزِ جفا بھی ہم نے صنم

وگرنہ وعدے سے کب ہم مکرنے والے تھے

۔

عنایتیں یہ مرے چارہ گر کی ہیں مجھ پر

’’وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے‘‘
۔

ہمیں سنبھال لیا، آپ کا بڑا احسان

وگرنہ ٹوٹ کے کب کے بکھرنے والے تھے

۔

سفینہ غرق ہوا ناخدا کی سازش سے

کہ عنقریب بھنور سے ابھرنے والے تھے

۔

نہ جانے کس کی نظر لگ گئی محبت کو

وگرنہ کب یہ دوانے بچھڑنے والے تھے

۔

قضا نے پل کی بھی مہلت نہ دی ہمیں ورنہ

نیا حیات میں اک رنگ بھرنے والے تھے

۔

وہ بات کرتے ہیں اونچی اڑان کی رفعتؔ

جو پنچھیوں کے پَروں کو کترنے والے تھے

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

متعلقہ

Close