غزل

وہ ہے اور آب آب منظر ہے

کیا عجب بے نقاب منظر ہے

عبدالکریم شاد

وہ ہے اور آب آب منظر ہے

کیا عجب بے نقاب منظر ہے

آئینہ دیکھ کر وہ کہتے ہیں

"واہ کیا لاجواب منظر ہے”

سب کے چہرے پہ ہے جو شادابی

سب کے دل میں خراب منظر ہے

پاؤں بڑھتے ہیں اس کی جانب ہی

وہ جو مثل سراب منظر ہے

وہ نگاہ کرم پڑے جس پر

بس وہی کام یاب منظر ہے

ہر گھڑی حال ہے یہی میرا

دل نظر اور خواب منظر ہے

وہ کہیں بھی نظر نہیں آتا

ہائے کتنا خراب منظر ہے

سب کھٹکتا ہے میری نظروں میں

وہ نہیں تو عذاب منظر ہے

شاد! نظروں کو تاب دید نہیں

کس قدر بے حجاب منظر ہے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close