غزل

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

خالد راہی

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی

.

وقت سا تحلیل ہوا چاہتا ہے

خاموش جان سے گزر رہا ہے کوئی

.

ساتھ چلنے کا وعدہ تو کر لیا تھا

سفرطویل دیکھ کر مکر رہا ہے کوئی

.

کڑی دھوپ میں بھی تپش نہیں

ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہے کوئی

.

دل کے سرتال بگڑے ہوئے ہیں

مجھ سے جیسے بچھڑرہا ہے کوئی

.

گرد ہی گردہے اور ہم راہی

ہرطرف جیسے بکھر رہا ہے کوئی

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close