ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

خالد راہی

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی

.

وقت سا تحلیل ہوا چاہتا ہے

خاموش جان سے گزر رہا ہے کوئی

.

ساتھ چلنے کا وعدہ تو کر لیا تھا

سفرطویل دیکھ کر مکر رہا ہے کوئی

.

کڑی دھوپ میں بھی تپش نہیں

ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہے کوئی

.

دل کے سرتال بگڑے ہوئے ہیں

مجھ سے جیسے بچھڑرہا ہے کوئی

.

گرد ہی گردہے اور ہم راہی

ہرطرف جیسے بکھر رہا ہے کوئی

⋆ شیخ خالد زاہد

شیخ خالد زاہد

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

الحمد لللہ رب العالمین!

میں نا عالم ہوں، نامفتی ہوں، نا محدث ہوں، نا ڈاکٹر ہوں اور نا ہی کوئی مذہبی اسکالر ہوں میں تو ایک ادنا سا طالب علم ہوں اور الحمدوللہ رب العالمین کہتے کہتے اس دارِ فانی سے کوچ کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ یہی وہ وقت ہوگا جب یقین اپنی معراج پر پہنچ چکا ہوگا اور وہ رب کائنات جو مجھے میرے علم کے بغیر دنیا میں تو بھیج دیتا ہے مگر مجھے علم کے سمندر میں ڈبودیتا ہے اور پھر اپنے پاس واپس بلاتا ہے جو اس علم کے سمندر میں جتنا ڈوبتا ہے جتنا تر ہوتا ہے شائد وہ ہی قربت کیلئے معتبر ہوتا ہے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے