غزل

ٹیس اٹھتی تھی بے حساب کبھی

آہ کتنی تھی باریاب کبھی

افتخار راغبؔ

ٹیس اٹھتی تھی بے حساب کبھی

آہ کتنی تھی باریاب کبھی

آپ دیتے تھے دستکیں دل پر

آپ ہوتے تھے دستیاب کبھی

کیا ہوا دیکھ کر حسابِ عشق

تم تو تھے ماہرِ حساب کبھی

مجھ پہ سو جان سے کبھی ہو نثار

یوں ہی مائل بہ اجتناب کبھی

یہ محبت ہے یا سزا اے دل

حال اتنا  نہ تھا خراب کبھی

بس میں ہوتا تو موند لیتا آنکھ

دیکھتا پھر نہ تیرا خواب کبھی

اک جھلک سے نواز دیتے مجھے

اک ذرا ہو کے بے حجاب کبھی

دل نہ پگھلے گا سنگ طینت کا

ختم ہوگا نہ اضطراب کبھی

دل ہے کوشاں کہ بھول جائے تجھے

ہو نہ کوشش یہ کامیاب کبھی

کیا وہ آنکھیں نہیں رہیں راغبؔ

آپ جن کے تھے انتخاب کبھی

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close