غزل

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینہ خواب

شاہدؔ کمال

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینہ خواب

سجا ہوا ہے مرے زخم سے مدینہ خواب

خزاں کی فصل میں جو رزقِ وحشتِ شب تھا

لٹا رہا ہوں سرِ شب وہی خزینہ خواب

مسافرانِ شبِ غم تمہاری خیر تو ہے

تڑخ کے ٹوٹ گیا کیوں مرا نگینہ خواب

حقیقتوں کے بھنور سے مجھے نکالے پھر

رواں کرے مری جانب کوئی سفینہ خواب

بنا دیا تری صحبت نے بے ادب ان کو

کوئی سکھائے اِن آنکھوں کو اب قرینہ خواب

کوئی تو ہو کہ جو مجھ کو فریبِ پیہم دے

وہ کوئی حسنِ حقیقت ہو یا حسینہ خواب

نشیب شب میں کوئی نوحہ کن تو رہتا ہے

یہ  چشم  گریہ نمناک   ہے   حزینہ خواب

یہ آنکھ ہے ہمہ دم گردشِ تجسس میں

تلاش کرتی ہے مجھ میں کوئی دفینہ خواب

فشار نیم شبی سے اب ان دنوں شاہدؔ

ہے چاک چاک مری جاں قبائے سینہ خواب

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close