پھولوں کا سر کچل کے جب آندھی گزر گئی

 عمران فاروقی

 پھولوں کا سر کچل کے جب آندھی گزر گئی

شبنم کی آنکھ دھول کے تنکوں سے بھر گئی

رقصاں تھی کل جو آگ کے نیلے گلاب پر

اے باغباں وہ موم کی تتلی کدھر گئی

پیر آئینے پے نیند کے رکھ کر سیاہ رات

خابوں کی کرچیاں میری آنکھوں میں بھر گئی

جب سے دیا ہے آپ نے کم عقل کاخطاب

صورت میرے شعور کی تب سے نکھر گئی

میرے دھن میں تیرے دھن کی مہک تھی وہ

سانسوں کی سیڈیوں سے پھسل کر جو مر گئی

⋆ عمران فاروقی

عمران فاروقی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

کہیں صدف کہیں گوہر کی لاش پانی میں

کہیں صدف کہیں گوہر کی لاش پانی میں چہار سمت ہیں پتھر کی لاش پانی میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے