غزل

پھول پتھر پہ کھلانے میں بہت وقت لگا

محبوب عالم دلکش اعظمی

 پھول پتھر پہ کھلانے میں بہت وقت لگا
دل کو آئینہ بنانے   میں   بہت وقت لگا

رسم  فاتحہ   ادا کر دیا گھر والوں   نے
جب اسے لوٹ کے آنے میں بہت وقت لگا

اک ذرا    دیر   لگی    ہوگیا   نذر آتش
وہ  مکاں جس کو بنانے میں بہت وقت لگا

جانے کیا بات ہوئی دیکھنے کے بعد تجھے
چاند کو چاند بتانے میں بہت وقت لگا

اجنبی شہر تھا ناآشنا تھے لوگ وہاں
اس لئے دل کو لگانے میں بہت وقت لگا

بھول جانا ہی بڑی بات ہے اس کو دلکش
یہ الگ بات ب ھلانے میں بہت وقت لگا

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close