غزل

پہلے تو سج دھج کے آتی تھی لبھانے کے لیے

اب نہیں سجتی کبھی مجھ کو جلانے کے لیے

عبدالکریم شاد

پہلے تو سج دھج کے آتی تھی لبھانے کے لیے
اب نہیں سجتی کبھی مجھ کو جلانے کے لیے

کتنے سمجھوتے کئے تجھ سے نبھانے کے لیے
گر گئے ہم خود ترے نخرے اٹھانے کے لیے

بھیج دیتی ہے مجھے پیسے کمانے کے لیے
اور خود تیار رہتی ہے لٹانے کے لیے

اب ترا معصوم چہرہ گھر پہ آتے ہی مجھے
"بے تحاشا دوڑتا ہے کاٹ کھانے کے لیے”

ہر گھڑی تیار رہتے ہیں ترے رخسار و لب
سرخ رو ہو کر مری باتیں گھمانے کے لیے

میرے منہ سے بھول کر جب سچ نکلتا ہے کبھی
کہتی ہے، میں ہی ملی الو بنانے کے لیے

ایک چھوٹی سی جو فرمائش نہ پوری کر سکا
سو جتن کرنے پڑے تجھ کو منانے کے لیے

کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں مجھ کو کیا کہوں
اپنے سچے پیار کو اکثر جتانے کے لیے

یاد آتی ہے کنوارے پن کی آزادی وہ جب
لینی پڑتی ہے اجازت آنے جانے کے لیے

ہے تمہارا کام کیا ابلیس کے چیلو! یہاں
بیویاں کیا کم ہیں ہم کو آزمانے کے لیے

ایک شوہر نے بڑی قیمت چکائی ہے میاں!
اپنی بیوی کو سرِ بازار لانے کے لیے

قبل شادی خوب ہنس ہنس کر ہوئیں باتیں تمام
وجہ اب ملتی نہیں ہے مسکرانے کے لیے

میرے حصے میں تو بس وہ پہلی شب ہی آئی تھی
عشق کا سارا مزہ ہوگا زمانے کے لیے

شاد میں کیسے رہوں جب اک بہانہ روز و شب
ڈھونڈتی رہتی ہے تو مجھ کو ستانے کے لیے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close