پیکرِ مہر و وفا روحِ غزل یعنی توٗ

2

افتخار راغبؔ

پیکرِ مہر و وفا روحِ غزل یعنی توٗ

مِل گیا عشق کو اِک حُسن محل یعنی توٗ

شہرِ خوباں میں کہاں سہل تھا دل پر قابوٗ

مضطرب دل کو ملا صبر کا پھل یعنی توٗ

غمِ دل ہو غمِ جاناں کہ غمِ دوراں ہو

سب مسائل کا مِرے ایک ہی حل یعنی توٗ

گنگناتے ہی جسے روح مچل اُٹھتی ہے

میرے لب پر ہے ہمیشہ وہ غزل یعنی توٗ

دفعتاً چھیڑ کے خود تارِ ربابِ الفت

میرے اندر کوئی جاتا ہے مچل یعنی توٗ

ڈھونڈ کر لاؤں کوئی تجھ سا کہاں سے آخر

ایک ہی شخص ہے بس تیرا بدل یعنی توٗ

پیاس کی زد میں محبت کا شجر یعنی میں

جس پہ برسا نہ کبھی پریٖت کا جل یعنی توٗ

قلبِ راغبؔ میں عجب شان سے ہے جلوہ فگن

دلربائی کا حسیں تاج محل یعنی توٗ

تبصرے