غزل

چاہتِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

احمد نثارؔ

ہم بھی گمنام کسی نام پہ مرجاتے ہیں

اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں

جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں

اور کس نام سے ایام گذر جاتے ہیں

وقت کی شام کسی نے نہیں دیکھی لیکن

شام کا وقت تِرے نام ہی کر جاتے ہیں

جس طرف جاکے کوئی لوٹ کے آیا ہی نہیں

جانے کیوں لوگ اسی راہ گذر جاتے ہیں

اپنی منزل کا پتہ پوچھتے پھرتے پھرتے

جانے کس راہ پہ جانا تھا کدھر جاتے ہیں

زیست کو زیست کی صورت نہیں دیکھی ہم نے

چاہت ِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

میرے اندر بھی کئی موج ابھر تے ہیں نثارؔ

جانے کیوں کر میرے اندر ہی اتر جاتے ہیں

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close