غزل

چا ند کے جیسے وہ آتا ہے چلا جاتا ہے

جلو ے ا پنے وہ دکھاتا ہے چلا جاتا ہے

سرفرازحسین

 چا ند کے جیسے وہ آتا ہے چلا جاتا ہے

جلو ے ا پنے وہ دکھاتا ہے چلا جاتا ہے

دیپ  ا لفت  کے  جلاتا ہے چلا جاتا ہے

دل کی گلیوں کوسجاتا ہےچلا جاتا ہے

با م  پر  ر و ز  و ہ  آتا ہے چلا جاتا ہے

وہ جھلک ا پنی دکھاتاہے چلا جاتا ہے

خواب بن کر کو ئی آتا ہے چلا جاتا ہے

نا ز  و  ا ند ا ز  دکھاتا ہے چلا جاتا ہے

د ل  کو  د یو انہ  بناتا ہے چلا جاتا ہے

مست آنکھوں سے پلاتاہےچلا جاتا ہے

دل سے نفرت کو مٹاتا ہے چلا جاتا ہے

پیا ر  کے  پھول  کھلاتاہے چلاجاتا ہے

آکے خوبوں میں ستاتا ہے چلا جاتا ہے

دل کومیرے وہ دؔکھاتا ہے چلا جاتا ہے

گیت   ر  نگین  سنا تا  ہے چلا جاتا ہے

ا پنی  پا ز یب  بجا  تا ہے چلا جاتا ہے

ا یک   پل  کے  لئے  آتا ہے چلا جاتا ہے

نیند آنکھو ں سے اڑاتا ہے چلا جاتا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close