غزل

چلو نفرت مٹانے کی کوئی تدبیر کرتے ہیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

 چلو  نفرت  مٹانے  کی کوئی  تدبیر  کرتے  ہیں
سبھی مل کر محبت کی یہاں تفسیر کرتے ہیں

۔

بنے بیٹھے ہیں انسانوں کے دشمن ہر طرف دیکھو
ضرورت ہے سو پھر سے ہند کی تعمیر کرتے ہیں

۔

بھلا تم ڈھونڈتے کیوں ہوں فسادی درسگاہوں میں
جہاں وہ ملک کے دشمن کی بھی تکفیر کرتے ہیں

۔

بنارس ہو کہ  ہو اجمیر یہ  سب کچھ ہمارا ہے
ہمارے ملک میں اس بات کی تشہیر کرتے ہیں

۔

یہ ہندو ہے میں مسلم ہوں یہ ہے عیسائی اور وہ سِکھ
اِنہیں   سے  ہند  کی  تیّار  ہم زنجیر  کرتے  ہیں

۔

جنہوں نے ملک کی آب و ہوا کردی ہیں زہریلی
سرِ محفل ہم ان غداروں  کی تحقیر  کرتے ہیں

۔

نہ تھے فتنے نہ  تھا غدار کا  لیبل کسی  پر بھی
چلو پھر سے  وہی تاریخ  ہم  تحریر  کرتے ہیں

۔

سبق  ہم  نے  محبت  کا  دیا  ہے اب تلک ہادؔی
ہمیں کو لوگ کیوں غدار سے تعبیر کرتے ہیں

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close