غزل

چمن کی آبرو باقی نہیں ہے

گلوں میں رنگ و بو باقی نہیں ہے

عبدالکریم شاد

چمن کی آبرو باقی نہیں ہے

گلوں میں رنگ و بو باقی نہیں ہے

تری تصویر اکثر دیکھتا ہوں

تو اس میں ہو بہ ہو باقی نہیں

ہزاروں آرزوؤں سے مجھے کیا؟

تری جب آرزو باقی نہیں ہے

برائے دید منظر تو بہت ہیں

نگاہ جستجو باقی نہیں ہے

ہوئی ہے درمیاں حائل خموشی

کہ وجہ گفتگو باقی نہیں ہے

عجب سا ایک خالی پن ہے مجھ میں

ہے سب کچھ ایک تو باقی نہیں ہے

مجھے اب کون آئینہ دکھائے

مرا کوئی عدو باقی نہیں ہے

اترتا کیوں نہیں آنکھوں میں اے شاد!

بدن میں کیا لہو باقی نہیں ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close