غزل

چھائی ہوئی بہار ہے مئے سے شغل روا ہوا

میں نے بھری بہار میں کچھ پی لیا تو کیا ہوا

جمالؔ کاکوی

چھائی ہوئی بہار ہے مئے سے شغل روا ہوا
میں نے بھری بہار میں کچھ پی لیا تو کیا ہوا

محفل کا رنگ خو ب ہے میری غزل ہے خوب تر
لگتا ہے آج مل گیا پیالے میں کچھ بچا ہوا

ناصح تمہیں پتہ ہے کچھ میں نے پیا ہے اک دوا
تم جو پیو تو زہر ہے میں نے پیا شفاہوا

کوئی غریب کیا کرے غیر کا ہو گیا صنم
زندہ ہے کیوں اسیرِغم زندہ ہے یہ برا ہوا

آ ئی کہاں سے یہ ضیا ء رونقِ بزم بن گیا
دل تھامگر لٹاہوا میں اک دیا بجھا ہوا

جتنی ہے داستان غم واقف ہوں سب سے اے میاں

کچھ تو مرا لکھا ہوا کچھ ہے مرا پڑھا ہوا

کون نہیں ہے روسیاہ کون نہیں ہے د اغ دار
چہرہ وہ آئینہ بناآنسو سے تھا دھلا ہوا

تیرا مکان لامکاں تیرا وجود بے نشاں
قبلہ اسے کہا گیاان کا جو نقشِ پاہوا

ٹھوکر سے راہ کھل گئی دریا پہاڑ ہٹ گئے
اہل جنوں جو چل پڑے صحرا ہرا بھرا ہوا

میں بھی جمالؔ کم نہیں فرہاد اورقیس سے
وحشی ہوں ایک مستندصحراکا ہوں پھرا ہوا

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close