غزل

کبھی حیات کی زنجیر سا لگے ہے مجھے

کبھی امید کبھی حوصلہ لگے ہے مجھے

احمد نثارؔ

کبھی وہ عکس کبھی آئنہ لگے ہے مجھے

جنون عشق کا چہرہ بھی کیا لگے ہے مجھے

۔

کبھی امید کبھی حوصلہ لگے ہے مجھے

کبھی حیات کی زنجیر سا لگے ہے مجھے

۔

میں تیرے در پہ جبیں کیا جھکا لیا تب سے

زمیں زمان سبھی زیرِ پا لگے ہے مجھے

۔

جو کل تلک مرے دل کی دعا سا لگتا تھا

وہ شخص آج محض بد دعا لگے ہے مجھے

۔

وہ ہنس رہے ہیں مگر طنز لے کے باتوں میں

دلوں کے بیچ یہاں فاصلہ لگے ہے مجھے

۔

جو میرے اشک پہ روتا رہا کئی برسوں

نہ جانے رشتئہ انساں میں کیا لگے ہے مجھے

۔

یہ زندگی بھی جو پائی تو چند لمحوں کی

یہ ہلکے پانی پہ اک بلبلہ لگے ہے مجھے

۔

میری ہنسی کو جو لْوٹا ہے زندگی کے لیے

ہنسے وہ شخص تو کیوں ضرب سا لگے ہیں مجھے

۔

نثارؔ آپ کا لہجہ قسم خدا کی یہاں

کسی غریب کے دل کی صدا لگے ہے مجھے

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close