غزل

کروں میں جان و جگر اب نثار مشکل ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

کروں میں جان و جگر اب نثار مشکل ہے
ہو تم.پہ پھر سے مجھے اعتبار مشکل ہے

۔

یہاں کی مٹی میں شامل ہے خون میرا بھی
مری زمیں پہ ترا اقتدار مشکل ہے

۔

نہیں ہے خیر کسی کی تری حکومت میں
خزاں کے رہتے ہی آئے بہار مشکل ہے

۔

تمہارے سامنے اب سر نگوں رہیں گے ہم
ہوں دشمنوں سے "یہ قول و قرار” مشکل ہے

۔

تجھے رفیق سمجھ کر زیاں کو زحمت دی
بناؤں اب میں تجھے رازدار مشکل ہے

۔

فسادی ملک پہ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں
نظامِ ملک ہو یوں سازگار مشکل ہے

۔

میں مدّتوں سے ہوں طالب حقوق کا اپنے
ہو مجھ سے اور بھی اب انتظار مشکل ہے

۔

ترے تمام مظالم عیاں ہیں ہر اک پر
تو اب کی بار بنے تاجدار مشکل ہے

۔

لہو سے ہم نے وطن کی زمیں کو سینچا ہے
ملے اب ایسا کوئی جاں نثار مشکل ہے

۔

تجھے تھا لوگوں نے سہواً بنادیا حاکم
کریں وہ اک ہی خطا بار بار مشکل ہے

۔

ہر ایک شخص مخالف ہے ظلم کا ہادؔی
یہ اتحاد ہو اب تار تار مشکل ہے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close