غزل

کرکے برباد مجھے پیار جتانے والا

احمد علی برقی ؔاعظمی

کرکے برباد مجھے پیار جتانے والا

میرا قاتل ہے وہی اشک بہانے والا

۔

وقت اب اس کو بتادے گا یہ آنے والا

خوش رہے گا نہ مجھے چھوڑ کے جانے والا

۔

خود بھی گِر سکتا ہے نظروں سے گِرانے والا

کرکے بدنام مجھے نام کمانے والا

۔

کامرانی کا جو ہے جشن منانے والا

خود نہ جل جائے مرے گھر کو جلانے والا

۔

کر سکا جو نہ وفاؤں کامری پاس و لحاظ

وہ کسی کا بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

۔

غمزہ و ناز و ادا سے نہ رجھائے مجھ کو

اور جھانسے میں نہیں اس کے میں آنے والا

۔

دل میں کچھ اور ہے اس کے تو زباں پر کچھ اور

سامنے مجھ سے ہے جو ہاتھ ملانے والا

۔

دیکھتا کیوں نہیں آئینے میں اپنا چہرہ

مسخ تصویر مری سب کو دکھانے والا

۔

ناخدا سے یہ کہو خیر منائے اپنی

موجِ طوفاں میں ہے اللہ بچانے والا

۔

ہیں سبھی پیٹ کے بندے یہ رکابی مذہب

وقت پر کام نہیں کوئی بھی آنے والا

۔

کہتے ہیں قادرِ مطلق جسے دنیا والے

ہے وہی صفحۂ ہستی سے مٹانے والا

۔

وقت یکساں نہیں رہتا ہے سبھی کا برقیؔ

خود کو محفوظ نہ سمجھے وہ ستانے والا

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close