غزل

کرکے قلم فروخت قلم کار گر پڑے

منصور قاسمی

کرکے قلم فروخت قلم کار گر پڑے

قدموں پہ میرِ شہر کے فن کار گر پڑے

۔

صدیوں سے جو کھڑے تھے یہاں امن کے منار

نفرت کی بادِ تند سے اس بار گر پڑے

۔

ربّ کلیم ! پھر سے وہی معجزہ دکھا

فرعون کا ہر ایک فسوں کار گر پڑے

۔

اتنا غرور ٹھیک نہیں بڑھتی مانگ پر

قیمت نہ تیری پھر سرِ بازار گر پڑے

۔

آؤ پرندو !  گھر پہ ہمارے بناؤ گھر

طوفاں کی چال سے سبھی اشجار گرپڑے

۔

بیمار ماں کوچھت سے سرِ راہ پھینک دی

پڑھ کرخیر یہ، ہاتھ سے اخبار گر پڑے

۔

منصور ! اپنا رتبئہ بالا سنبھال رکھ

ایسا نہ ہو کہ پرچمِ کردار گر پڑے

مزید دکھائیں

منصور عالم قاسمی 

مدیر اعزازی بصیرت میڈیا گروپ 

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close