غزل

کسی بھی خاک میں پیدا شدہ نمی کی طرح

مجھے عزیز ہے تو میری زندگی کی طرح

نائلہ شعور

(اندھیری  ممبئی )

کسی بھی خاک میں پیدا شدہ نمی کی طرح
مجھے عزیز ہے تو میری زندگی کی طرح

بے اختیار یہ دل مسکرانے لگتا ہے
وہ شخص لگتا ہے مجھ کو کسی خوشی کی طرح

کھِلی ہوئی ہے تری یاد ان فضاؤں میں
کسی حسین سے منظر کی سادگی کی طرح

اداس ہونے نہیں دیتی ایک پل بھی مجھے
بہت شریر ہے تصویر آپ ہی کی طرح

وہ آنکھوں آنکھوں عجب بولتا ہوا لہجہ
سنائی دیتا رہا مجھ کو خامشی کی طرح

دلوں میں نقشِ محبت سا اک ابھرتا وجود
غزل میں آتا ہوا کوئی شاعری کی طرح

گزر رہی ہے مرے دل سے نائلہ وہ یاد
دیے جلاتی ہوئی مجھ میں روشنی کی طرح

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close