غزل

کسی کا اشک بہانا بھی سانحہ ٹھہرا

احمد کمال حشمی

کسی کا اشک بہانا بھی سانحہ ٹھہرا
ہمارا قتل بھی معمولی واقعہ ٹھہرا
۔
اس ایک بوسۂ نم کو گزر گئے برسوں
مگر لبوں پہ ابھی تک ھے ذائقہ ٹھہرا
۔
غزل میں ایک وہی شعر اچھا تھا، جس میں
تمہارا درد مرے غم کا قافیہ ٹھہرا
۔
تمہاری یادوں سے مغلوب اب نہیں ہونگے
دل و دماغ میں اب کے معاہدہ ٹھہرا
۔
کبھی وہ متن، کبھی مرکزی خیال رہا
اور ایک میں کہ ہمیشہ ہی حاشیہ ٹھہرا
۔
وہ میرے ساتھ نہیں ھے تولگتا ھے کہ وہ ھے
مرا خسارہ ہی اب میرا فائدہ ٹھہرا
۔
نتیجہ کچھ ہو مری جیت تو یقینی ھے
کہ آج مجھ سے مرا ہی مقابلہ ٹھہرا
۔
یہ کھونے پانے کا بھی سلسلہ عجب ھے بہت
پتہ جب اسکا ملا خود میں لاپتہ ٹھہرا
۔
کماؔل! اس نے جہاں میرا ساتھ چھوڑا تھا
میں چل رہا ہوں مگر ھے وہ راستہ ٹھہرا
مزید دکھائیں

احمد کمال حشمی

احمد کمال حشمی مغربی بنگال کے مستند و معتبر شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اربابِ نظر سے پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ’سفر مقدر ہے‘، ’ردعمل‘، ’آدھی غزلیں‘، ’چاند ستارے جگنو پھول‘ ان کے شعری مجموعوں کے نام ہیں۔ آپ کو مغربی بنگال اور بہار اردو اکادمیوں سمیت مختلف ادبی اداروں سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ احمد کمال حشمی ادب کی بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں، مختلف ادبی اداروں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں اس کے علاوہ نئے ادیبوں اور شاعروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کروانے اور ان کی تربیت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ موصوف حکومت مغربی بنگال کے محکمہ اراضی میں افسر ہیں اور ان دنوں کولکاتا میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close