غزل

کس جگہ کس وقت اور کس بات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

میری شرحِ خواہش و جذبات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

افتخار راغبؔ

کس جگہ کس وقت اور کس بات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

میری شرحِ خواہش و جذبات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

حالِ دنیا، حالِ دل کہتے رہو اور تغاقل کا الم سہتے رہو

ڈال کر غائر نظر حالات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

جیت پر مِلتے ہیں سب پرسانِ حال اور رکھتے ہیں بہت میرا خیال

مات کھا جاؤں تو میری مات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

ساری دنیا کہہ رہی ہے واہ وا اور وہ بیٹھے ہیں گم صم بے صدا

میری غزلیں اور مرے نغمات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

یوں تو عادت ہے اُنھیں تقریر کی، اچھّے دن کے خواب کی تشہیر کی

گر سوال اٹھّا شبِ ظلمات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

کیا کروں راغبؔ کوئی اُن سے گلہ، غیر پر کرتے ہیں کھل کر تبصرہ

بات جب چھڑتی ہے میری ذات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close