غزل

کس لیے سوچوں کہیں اور میں جانے کے لیے

دل سے بہتر تو نہیں کچھ بھی ٹِھکانے کے لیے

سحر محمود

کس لیے سوچوں کہیں اور میں جانے کے لیے

دل سے بہتر تو نہیں کچھ بھی ٹِھکانے کے لیے

میں تو تیار ہوں دل، دل سے ملانے کے لیے

ان سے دیوارِ انا کہہ دو گرانے کے لیے

کوئی ملتا نہیں یہ بار اٹھانے کے لیے

 میں ہوں بے تاب دل و جان لٹانے کے لیے

آ بھی جاؤ کہ تمھارا ہی سہارا ہے مجھے

” شام بے چین ہے سورج کو گرانے کے لیے”

دل کے ارمان مچلتے رہے دل میں میرے

تم تو آئے تھے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے

وقت کس موڑ پہ لے آیا ہے ہم دونوں کو

کچھ بچا ہی نہیں اب سننے سنانے کے لیے

میں تو حیران ہوں اس طرزِ تعیُّش پہ سحر

لوگ کیا کچھ نہیں کرتے ہیں دکھانے کے لیے

مزید دکھائیں

سحر محمود

نام: فضل الرحمن قلمی نام: سحر محمود پیدائش (تاریخ و مقام): 26/08/1989 ، ابھراؤں ، کپل وستو، نیپال تعلیم: مکتب : مدرسہ مصباح العلوم، منخوریا شمالی۔ حفظ: معہد عثمان بن عفان، ذاکر نگر، دہلی۔(2006) عالمیت و فضیلت: جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی۔(14-2013) بی- اے اردو (پرائیویٹ): جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی (2018) مصروفیات: مارکیٹنگ مینیجر معروف قلمی خدمات (مقالات و کتب): بعض رسائل و جرائد میں مضامین و مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ شعری مجموعہ : بنام “جہان آرزو” (2016) میں منظر عام پر آچکا ہے۔ پسندیدہ قلم کار: نثر نگاروں میں: ابن صفی ، مشتاق احمد یوسفی، سعادت حسن منٹو،ابو الکلام آزاد وغیرہ۔ شعرا میں : میر، غالب،علامہ اقبال،شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطانپوری،ناصر کاظمی، محسن نقوی، عباس تابش وغیرہ پسندیدہ کتابیں: زاد المعاد ( ابن قیم) غبارِ خاطر( ابو الکلام آزاد) جب زندگی شروع ہوگی ( ابو یحی- ان کی تمام تصنیفات) ۔ رہائش: تاہاچل، کٹھمنڈو ، نیپال رابطہ: 9811576091-977+ saharmahmood999@gmail.com

متعلقہ

Close