غزل

کلاہ سر پہ نہ مشہود سر ہے کاندھے پر 

ندی سراب ہے سوکھا شجر ہے کاندھے پر

جمال کاکویؔ

کلاہ سر پہ نہ مشہود سر ہے کاندھے پر
ندی سراب ہے سوکھا شجر ہے کاندھے پر

شکستہ حال سہی سر سربریدہ نہیں
میری شناخت ابھی معتبر ہے کاندھے پر

تمام حال رقم ہو رہا ہے دفتر میں
سنبھل سنبھل کہ کوئی باخبر ہے کاندھے پر

اسے غرور کہ سب سے بلند ہم ہی ہیں
اسے بتاؤ وہ بے خبر ہے کاندھے پر

لڑائی میں جو سپاہی کے کام آتا ہے
وہ اسلحہ تو بڑا پر خطر ہے کاندھے پر

بنوگے بوجھ تو منزل کو کیسے پاؤگے
یہ کیا کہا کہ بڑا درد سر ہے کاندھے پر

یہاں نہیں تو وہاں ہم قیام کر لیں گے
خدا کا فضل ہے اپنا تو گھر ہے کاندھے پر

سڑک پہ وہ جو تھا سرکس کا کھیل دکھلاتا
تو ایک دن وہ دکھا بازی گر ہے کاندھے پر

قدم قدم کا اٹھانا پہار ہو جیسے
ضعیف باپ کا لخت جگر ہے کاندھے پر

یہاں وہاں بجی شہنائی ایک ہی دھن میں
یہاں وہاں کا تومنظر دگر ہے کاندھے پر

غلام سب کا ہے دنیا کے کام آتا ہے
یہ بوجھ سب کا لیئے جانورہے کاندھے پر

لٹک رہا ہے جو بچّے کے کاندھے سے بستہ
سفر ہے زیست کا رختے سفر ہے کاندھے پر

رکھے کون بھلا میرے زخم پر مرہم
جمال آج میرا چارا گر ہے کاندھے پر

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close