غزل

کل عجب ایک سانحہ گزرا

میری آنکھوں سے خواب سا گزرا

احمد کمال حشمی

کل عجب ایک سانحہ گزرا

میری آنکھوں سے خواب سا گزرا

دل میں گرد و غبار اڑنے لگے

تیری یادوں کا قافلہ گزرا

منزلوں کا پتہ بتائے بغیر

میرے آگے سے راستا گزرا

پتھروں کی بہار آئی ھے

شہر سے پھر وہ سرپھرا گزرا

آندھیوں کی ہنسی اڑاتے ہوئے

ایک جلتا ہوا دیا گزرا

زندگی کی غزل ادھوری رہی

جب ردیف آئی،  قافیہ گزرا

عقل سے دل نے مشورہ نہ کیا

ایک سے ایک مسئلہ گزرا

میں ذرا سب سے مختلف تھا کماؔل

مجھ کو سمجھا گیا، گیا گزرا

مزید دکھائیں

احمد کمال حشمی

احمد کمال حشمی مغربی بنگال کے مستند و معتبر شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اربابِ نظر سے پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ’سفر مقدر ہے‘، ’ردعمل‘، ’آدھی غزلیں‘، ’چاند ستارے جگنو پھول‘ ان کے شعری مجموعوں کے نام ہیں۔ آپ کو مغربی بنگال اور بہار اردو اکادمیوں سمیت مختلف ادبی اداروں سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ احمد کمال حشمی ادب کی بے لوث خدمت انجام دے رہے ہیں، مختلف ادبی اداروں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں اس کے علاوہ نئے ادیبوں اور شاعروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کروانے اور ان کی تربیت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ موصوف حکومت مغربی بنگال کے محکمہ اراضی میں افسر ہیں اور ان دنوں کولکاتا میں مقیم ہیں۔

متعلقہ

Close