غزل

کوئی  مقام  بھی  منزل  نہیں  ہوا  اب تک

جہاں گیر نایاب

کوئی  مقام  بھی  منزل  نہیں  ہوا  اب تک

مجھے جو  چاہئے حاصل نہیں   ہوا اب تک

ہماری زیست  کا حاصل جو  ایک لمحہ تھا

انا کی جنگ  میں  زائل  نہیں  ہوا اب  تک

ترا   مزاج  سمجھتا  ہوں   اس  لیے   شاید

ترے  سلوک  سے  بد  دل  نہیں  ہوا اب تک

میں اس کےفون میں محفوظ ایسا نمبرہوں

جو ایک  بار  بھی   ڈائل  نہیں ہوا  اب  تک

بھلے  ہی  تو  نے فراموش کر دیا  ہے مجھے

میں تیری یاد  سے  غافل نہیں  ہوا  اب تک

ہزار جلوے تھے نایاب  میرے  چاروں طرف

یہ دل کسی  پہ بھی  مائل نہیں ہوا اب تک

مزید دکھائیں

جہاں گیر نایاب

جہا ں گیر نایاب کا اصل نام محمد جہانگیر عالم ہے۔ آپ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں اور سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے لیے بھی معروف ہیں۔

متعلقہ

Close